Share/Save/Bookmark

کد مطلب :64738
تاریخ انتشار : پنج شنبه 28 وری 1399 ساعت : 23:23:11

خلیج فارس میں ایران و امریکہ کے بحری جہاز آمنے سامنے

کچھ عرصے قبل بھی دہشتگرد امریکی بحریہ کے ایک جنگی طیارے اف اٹھارہ نے ایران کے فضائی حدود کے قریب ہونے کی کوشش کی جسے ایرانی فوج نے وارننگ دے کر بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مغربی ایشیا میں تعینات امریکی دہشتگردوں کے ہیڈ کواٹر سینٹکام نے دعوی کیا ہے کہ ایران کی جنگی کشتیاں خلیج فارس میں موجود امریکہ کے جنگی بحری جہازوں سے قریب ہوئی ہیں۔

ارنا نیوز کے مطابق خطے میں موجود امریکی دہشتگردوں کے ہیڈ کواٹر نے ایک بیان جاری کر کے یہ دعوی کیا ہے کہ بدھ کے روز ایران کی گیارہ جنگی کشتیوں نے امریکہ کے چھے جنگی بیڑوں کے قریب ہوکر ان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی۔

دہشتگردی کے لئے معروف امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعوی ایسے میں کیا ہے کہ حالیہ چند مہینوں کے دوران وہ خود بارہا غیر قانونی اقدامات انجام دے کر خطے میں عالمی قوانین و ضابطوں کی دھجیاں اڑا چکا ہے۔

گزشتہ برس بیس جون کو امریکہ کے لئے مایہ ناز سمجھے جانے والے جاسوسی ڈرون کلوبل ہاؤک نے ایران کی فضائی حدوں کو پار کیا تھا جس کے بعد سپاہ پاسداران کے جوانوں نے اپنے بنائے ہوئے میزائل سے اسے تباہ کر کے امریکی ہیبت کوخاک میں ملا دیا تھا۔


یہ بھی پڑھئے: کروڑوں پاکستانیوں کی ذاتی معلومات فروخت
کچھ عرصے قبل بھی دہشتگرد امریکی بحریہ کے ایک جنگی طیارے اف اٹھارہ نے ایران کے فضائی حدود کے قریب ہونے کی کوشش کی جسے ایرانی فوج نے وارننگ دے کر بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران بارہا یہ اعلان کر چکا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں موجود غیر ملکی جنگی بیڑوں پر نظر رکھنا اس کا فطری اور قانونی حق ہے اور اگر کوئی ملک ایران کے حدود کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرے گا تو عالمی قوانین کے مطابق اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔


  د افغان ایرکا خبري اژانس

• اړوند خبرونه:

• ستاسو آندونه

  • ستاسو را لیږل شوي آندونه او پيغامونه د افغان ایرکا خبر راټولونې له تائید وروسته په ویبسایټ کې خپریږي
  • د تور او تهمت پيغامونه نه خپریږي
  • هغه پیغامونه چې په پښتو او دري ژبه نه وي یا په خبر پورې اړونده نه وي، نه خپریږي.